لال مسجدخون سےکیوں لال ہوئی؟ تحریر:مولانامحمدسعدندیم فرزند:علامہ عبدالغفورندیم شہیدؒ

لال مسجدخون سےکیوں لال ہوئی؟

تحریر:مولانامحمدسعدندیم
فرزند:علامہ عبدالغفورندیم شہیدؒ

آج پھر7 جولائی آگئی۔7 جولائی 2007 میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک ظلم کی تاریخ لکھی گئی جس کوشائدہماری آنےوالی نسلیں بھی نا بھولاسکیں۔فرعون نماحکمرانوں نےاپنی فرعونیت طاقت سےپاکستان میں بسنےوالےمسلمانوں کےدل سےایمان جیسی دولت کوچھیناچاہالیکن اتناظلم ڈھانےکےباوجودناکام رہے۔اسلام آبادمیں چلنےوالےفحاشی کےاڈے جوآنٹی شمیم نامی عورت کی زیرسرپرستی چلتےتھے۔علامہ عبدالرشیدغازی شہیدؒنےحکومت سےمطالبہ کیاکہ اس فحاشی کےاڈےکوبندکروایاجائے۔پاکستان کےدارالحکومت اسلام آبادمیں یہ فحاشی کےاڈےہمیں کسی صورت قبول نہیں ہیں۔علامہ عبدالرشیدغازی شہیدؒنےاسلامی نظام کےنفاذکامطالبہ بھی کیا۔لیکن ناجانےاس جائزمطالبےکےباوجودانکواتنی بڑی سزاکس بات کی دی گئی؟۔کئی ہفتوں سےمسلسل لال مسجدوجامعہ حفصہ کوحکومت نےاپنےگھیرےمیں رکھااوربجلی کھاناپانی گیس ہرچیزبندکردی گئی۔جامعہ حفصہ کےطلبہ وطالبات نےدرختوں کےپتےکھاکراپنی بھوک کومٹایا۔جب پانی نہیں تھاتوطلبہ وطالبات نےاللہ سےبارش کی دعاکی اللہ پاک نےزور داربارش برسائی توطلبہ نےاپنےبرتن پانی سےبھرلئے۔اوروہی پانی اپنےاستعمال میں لیا۔لال مسجدمیں موجودحضرات نےسنت رسولﷺ کوزندہ کرتےہوئےپیٹ پرپتھرباندھ لئےلیکن دین اسلام کےبرعکس کسی طاغوتی نظام کوقبول نہ کیا بلکہ ڈٹ کرمقابلہ کیا۔علامہ عبدالرشیدغازی شہیدؒ بہت ہی نرم مزاج اورنفیس طبعیت کےمالک انسان تھےلال مسجداورجامعہ حفصہ کاانتظام خودسمبھالتے۔علامہ عبدالرشیدغازی شہیدؒاردو عربی فارسی انگلش چینی اورترکی زبان پرمکمل عبوررکھتےتھے۔میری ایک ملاقات علامہ عبدالرشیدغازی شہیدؒسےہوئی اوروہی یادگارملاقات رہی۔ہم سب بھائی اوروالدمحترم علامہ عبدالغفورندیم شہیدؒ پنجاب کےسفرپرگئے۔پنجاب پہنچنےکےچنددن بعدمولانااعظم طارق شہیدؒکی دعوت پرانکےگھرجھنگ پہنچے۔دعوت کےبعدمولانااعظم طارق شہیدؒکےہمراہ والدمحترم علامہ عبدالغفورندیم شہیداورہم سب بھائی مولانااعظم طارق شہیدؒ کی گاڑی میں سوارہوکراسلام آبادکی طرف روانہ ہوئے۔راستےمیں نمازعصرکاوقت ہوگیاتومولانااعظم طارق شہیدؒنےفرمایالال مسجدمیں نمازعصراداکرتےہیں اورعلامہ عبدالرشیدغازی اورمولاناعبدالعزیزسےملاقات بھی ہوجائےگی۔گاڑی سےاترکرمسجدمیں داخل ہوئےتووضوخانےکےساتھ ہی علامہ عبدالرشیدغازی شہیدپارک میں جلواہ افروزتھے۔مولانااعظم طارق اوروالدشہیدکودیکھتےہی فوراًاٹھےاورگلےملنےلگےاوربہت خوش ہوئےکہ آج مولانااعظم طارق اورندیم صاحب خودچل کر ہمارےگھرکےدروازےپرتشریف لائے۔نمازعصرمولانااعظم طارق شہیدؒکی اقتداء میں اداکی پھرجامعہ حفصہ میں علامہ عبدالرشیدغازی شہیدکےدفترکی روانہ ہوئے۔کافی گپ شپ لگی مولانااعظم طارق شہید والدمحترم اورعلامہ عبدالرشیدغازی شیہدکےدرمیان۔ نمازمغرب سےپہلےلال مسجدسےروانہ ہوئےچونکہ مولانااعظم طارق شہیدنےاسمبلی کےاجلاس میں شرکت کرناتھی۔بہت ہی سادہ مزاج خوش مزاج انسان تھے۔ہمارےساتھ بھی کافی پیارمحبت کےساتھ پیش آئے۔ناجانےاس نفیس طبعیت کےانسان کواتنی بڑی سزاکس بات کی دی گئی۔صرف انکاجرم یہ تھاکہ انہوں نےاسلام کےنام پرحاصل کئےگئےملک میں اسلامی نظام کےقیام کی بات کی؟انکاجرم یہ تھاکہ وہ اسلام آباد میں فحاشی کےاڈےبندکرواناچاہتےتھےجوسرکاری سرپرستی میں چل رہےتھے؟آنٹی شمیم اتنی مقدس تھی کہ حکمرانوں نےاللہ کےگھرپرگولیاں اوربم چلادئیے؟آنٹی شمیم اتنی مقدس تھی کہ اللہ کی کتاب قرآن پاک کوجلاڈالا؟یہ سب کام پرویزمشرف نےاوراس کےحواریوں نےکئے۔وہ دن گزرگیالیکن آج وہی شخص جومکالہراتاتھااس مکےمیں اب دم ختم ہوچکاہے۔وہ شخص جوفرعون کےلب ولہجہ میں بات کرتاتھاآج اسکی فرعونیت اورجنون ختم ہوچکاہے۔اللہ پاک کےگھرجومسمارکرنےچلا تھااللہ پاک نےاس کوایڈزجیسی بیماری میں مبتلاکرکےبتادیاکہ جوفرعون بنےکی کوشش کرےگااللہ تعالی اس کو ایسےذلیل وخوارکرتاہے۔آج جس بیماری میں پرویز مشرف بدبخت مبتلاہےوہ اپناپیشاب تک روکنےکی صلاحیت نہیں رکھتا۔کیونکہ پرویزمشرف خدائی دعوؤں پراترآیاتھاتواللہ پاک نےفرعون کوغرق کرکےاس کوبھی دنیاکےلئےعبرت بنادیااوراس ملعون زمانہ کوبھی اللہ پاک نےنشانےعبرت بنادیاہے۔گزشتہ روزمیں کسی جگہ پر پڑھ رہاتھاکہ مشرف کےجسم سےبہت شدید بدبو پھیل رہی ہے۔اس کےقریب اس کےگھروالےبھی آنےکوتیارنہیں ہیں۔اس ملعون نےجن نہتےطلبہ وطالبات پربم برسائےانکی قبروں سےتوقرآن مجیدکی تلاوت کی آوازیں آتی تھیں۔انکی قبروں سےتوکئی دن تک جنت کی خوشبوآتی رہی۔حالانکہ مشرف اور اسکی زوریت نےانکوتوجلاڈالاتھا۔انکےجسم کےاجزاء بھی پورےنہیں ملےتھے۔ان شہداء کےگوشت کےلوتھڑے جامعہ حفصہ کی دیواروں پر چپک گئےتھے۔جامعہ حفصہ کےدرو دیوارخوشبوسےمہک رہےتھے۔اتناکچھ دیکھ کربھی ظالموں تمہیں ان پرترس نہ آیا۔وہ حق پرتھے۔ مشرف اوراسکی کابینہ اتنی غیروں کےاشاروں میں اندھی ہوچکی تھی کہ ان لوگوں نےاپنےہی مسلمان بھائیوں پرگولیاں برسادی۔مولاناعبدالعزیزصاحب کےبیٹےحافظ حسان کوجلاڈالا انکی شناخت بھی مشکل تھی۔لیکن میرےرب کاوعدہ ہےکہ حق غالب آکےرہےگا آج اپنی آنکھوں سےدیکھ رہےہیں۔مشرف جوخودکوخداسمجھنےلگاتھاآج بسترمرگ پرہےکوئی اپنابھی اس کونہیں پوچھتا۔لیکن جامعہ حفصہ کی نئی عمارت متبادل جگہ پرتعینات ہے۔لال مسجدبھی اپنی آب وتاب کےساتھ ہے۔اورمولاناعبدالعزیزصاحب بھی اسی لال مسجدمیں آتےجاتےہیں اورجمعہ کےاجتماعات سےخطاب کرتےہیں۔مشرف اوراسکےچمچوں کوکیاملا صرف رسوائی اوراس رسوائی کو ان شاءاللہ قیامت کی صبح تک کوئی ختم نہیں کرسکتا۔۔۔

مکمل پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button