تاریخ ساز شہر پتوکی چونیاں

لاہور سے جنوب کی جانب اگر جی ٹی روڈ پر سفر کیا جائے تو 80 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک شہر آتا ہے جس کا نام ” #پتوکی ” ہے
” #پتوکی ” کے پس منظر میں اگر جھانک کر دیکھا جائے تو کئی صدیاں پہلے یہ ہندوؤں کے ایک دیوتا ” پٹوان ” سے منسوب تھا جوکسی زمانے میں اس شہر میں رہا کرتا تھا ۔ #پتوکی پر بات کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ بتانا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ پتوکی سے صرف آٹھ دس کلومیٹر جنوب میں ایک اور تاریخی قصباتی شہر کا نام کبھی ” واں رادھا رام ” ہوا کرتا تھا اور یہ نام بھی ہندو مذہب کی مقدس ہستیوں رادھا اور رام سے مشہور تھا جو کبھی یہاں رہا کرتے تھے یا ان کا یہاں کبھی قیام رہا تھا۔
اسی طرح #پتوکی سے ملحقہ #چونیاں شہر بھی ایک ہندو مہاراجہ کی بیٹی ” چونی ” سے منسوب تھا۔یہ شہر برصغیر پاک و ہند کے عظیم دریا ” دریائے بیاس ” کے مغربی کنارے پر آج بھی ایک بلند و بالا ٹیلے پر واقع ہے ۔
اسی طرح اسی ہندو مہاراجہ کی دوسری بیٹی کنگن تھی جس کے نام پر ” #گنگ_پور ” کاقصباتی شہر آج بھی دریائے ستلج کے مغربی کنارے پر آباد نظر آتا ہے ۔اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ وسطی پنجاب کا یہ عظیم خطہ کبھی ہندووں کے دیوتاﺅں کی آمجگاہ ہوا کرتا تھا ۔جس کے آثار قدیمہ آج بھی ان پرانی بستیوں اور شہروں میں جابجا بکھرے دکھائی دیتے ہیں ۔
#پتوکی کا شمار صوبہ پنجاب کے اہم ترین شہروں میں ہوتا ہے یہاں پراپرٹی کے ریٹ لاہور کے تقریبا برابر ہیں ۔ یہ شہر لاہور ملتان شاہراہ ( جی ٹی روڈ ) پر واقع ہونے کی بنا پر تعلیمی٬ ثقافتی اور کاروباری اعتبار سے بھی اپنا منفرد مقام رکھتا ہے ۔بلکہ پاکستان میں سب سے زیادہ پھول اور پھل اسی سرزمین کی پیداوار دکھائی دیتے ہیں ۔
#پتوکی کےچاروں اطراف سے وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی پھولوں کی بے حدو حساب نرسریوں اور پھلوں کے باغات کو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہیں ۔جی ٹی روڈ پر جونہی پتوکی شہر ختم ہوتاہے تو دونوں اطراف سے خوبصورت ہوٹلوں ٬ بنگلوں اور جابجا پھیلے ہوئے پھولوں کی لمبی قطار در قطار نرسرسیاں دیکھنے والوں کو رومانوی ماحول میں لے جاتی ہیں ۔
لیکن جہاں قدرت نے اس منفرد شہر کو کپاس ٬ گنا ٬ گندم٬ ہر نوعیت کے پھل اور پھولوں کی نعمت سے نوازا ہے وہاں یہ شہر پینے کے صاف پانی سے محروم ہے ۔اس کے باوجود یہ شہر دریائے راوی کے مشرقی کنارے پر صرف 28 کلومیٹر فاصلے پر واقع ہے لیکن اس شہر کا پانی اس قابل نہیں کہ اسے پیا جائے ۔یہی وجہ ہے کہ پورے شہر کا پانی ایک بڑی پائپ لائن کے ذریعے 20 کلومیٹر مغرب میں واقع ایک قصبے ” ہلہ "سے لایا جاتا ہے اور مقامی انتظامیہ پانی کی سپلائی دن میں صبح اور شام مخصوص اوقات میں کرتی ہے ۔
تقریب 654,000 انسانی آبادی کا یہ شہر صوفیائے کرام کے حوالے سے بھی منفرد اور اعلی مقام رکھتا ہے ۔ اس شہر اور گردو نواح کے قصبوں میں بے شمار روحانیت کے پیروکار ٬ ولی کامل ٬ قطب اور ابدال بھی موجود ہیں ان میں سب سے مشہور بزرگ ہستی کا نام حضرت بابا عباس علی شاہ ؓ ہے ۔حضرت بابا عباس علی شاہ ؓنے نہ صرف اپنی زندگی کو تبلیغ اسلام اور بھٹکے ہوئے انسانوں کو راہ راست پر لانے میں اہم کردار ادا کیا اور لوگوں میں باہمی محبت ٬ یگانگت اور مل جول کر رہنے کا درس دیا ۔
علاقے کی دیگر روحانی ہستیوں میں حضرت شیرشاہ ولی ؒ ٬ حضرت بابا ڈانگ شاہ ؒ ٬ حضرت بابا طالب شاہ ؒ اور حضرت بابا اسمعیل ؒ ٬ حضرت سید مظہر حسین شاہ ٬ حضرت سید کرم شاہ ٬ حضرت بابا کاظم عیل شاہ ؒ شامل ہیں۔ شاید پینے کے پانی کے معیاری نہ ہونے کی بنا پر حضرت بابا عباس علی شاہ کاظمی نے اس شہر کو عراق کے تاریخی شہر ” کوفے ” سے بھی تشبیہ دی ہے۔
تحصیل پتوکی میں تقریبا 130 سے زائد فیکٹریاں اورکارخانے جی ٹی روڈ کے ارد گرد موجود دکھائی دیتے ہیں ۔جن میں پتوکی شوگر ملز ٬ وال آئس کریم ٬ حلیب دودھ ٬ سنچری پیپر اینڈ بورڈ ملز ٬ اشرف کاٹن ملز٬ فحان بیسٹ فوڈز نمایاں ہیں ۔
پتوکی شہر شرح خواندگی کے اعتبار سے بھی اپنی منفرد پہچان آپ رکھتا ہے جہاں سکول ٬ کالجز , یونیورسٹی آف ویٹرنیری سمیت دیگر تعلیمی اداروں کی تعداد 300سے زیادہ بنتی ہے جن میں گورنمنٹ کالج پتوکی ٬ گورنمنٹ کالج برائے خواتین پتوکی ٬ گورنمنٹ کالج آف کامرس ٬ ووکیشنل انسٹیٹیوٹ پتوکی , پنجاب کالج ,سپیرئیر کالج , ایجوکیٹر سکول ,الائیڈ سکول نمایاں ہیں ۔
پتوکی ریلوے اسٹیشن کو بھی یہاں کے قابل ذکر مقامات میں اہم مقام حاصل ہے لاہور سے کراچی جانے والی مین ریلوے لائن پر درجنوں ٹرینیں یہاں سے ہر روز گزرتی ہیں اور سینکڑوں مسافر وں کا یہاں آنا اور جانا معمول کی بات ہے۔ لیکن تاریخی اہمیت کا حامل ریلوے اسٹیشن اب بھی مقامی لوگوں کے لیے ایک منفرد تفریح گاہ کی حیثیت رکھتا ہے جہاں شام ڈھلے شہر کے منچلے پلیٹ فارم پر آکر بیٹھ جاتے ہیں اور دوستوں سے خوش گپیوں کے ساتھ ساتھ آنے جانے والی ٹرینوں سے اترنے والے مسافروں کو دیکھ کر متحرک زندگی کا لطف اٹھاتے ہیں ۔اس ریلوے اسٹیشن کے قریب ہی دو گہرے اور پختہ پانی کے تالاب نظر آتے ہیں جہاں سے کبھی ریلوے کے اسٹیم انجن رواں دواں رہنے کے لیے پانی حاصل کیا کرتے تھے لیکن جب سے اسٹیم انجن کو ختم کردیاگیاہے یہ تالاب اب اثار قدیمہ کا منظر پیش کرتے ہیں ۔ریلوے املاک کی بربادی اور عدم دیکھ بھال کی وجہ سے ریلوے اسٹیشن پتوکی بھی رفتہ رفتہ اپنی اہمیت کھوتا چلا جارہا ہے ۔
پتوکی کچہری جوکہ اب جوڈیشل کمپلیکس کے طور پر اپنا منفرد مقام رکھتی ہے یہ شہر سے 5،6کلومیٹر کی مسافت پر بائی پس پرواقع ہے، پتوکی جوڈیشل کمپلیکس پنجاب کی منفرد وسیع اور کشادہ سرکاری عمارت کے طور پر پہنچانی جاتی ہے جس میں جوڈیشل کالونی، مسجد، پارک، پوسٹ آفس، کینٹین، پارکنگ اور وسیع وعریض کشادہ روڈز پر مشتمل ہے اور تقریباً ایک ہزار وکلاء بار ممبرز پشہ وکالت کے طور پر فرائض سرانجام دیتے ہیں.
یہ بھی بتاتا چلوں کہ یہاں پتوکی شہر اور گرد ونواح کے دیہاتوں میں رہنے والوں کی ا کثریت "میو "برادری سے تعلق رکھتی ہے لیکن جوں جوں یہاں تعلیم عام ہوتی چلی گئی مقامی لوگ برادری سسٹم اور قوم پرستی کو خیر باد کہتے چلے گئے ۔ اس کے باوجود کہ یہاں سیرو تفریح کے مواقع اور کھیل کے وسیع میدان نہ ہونے کے برابر ہیں پھر بھی پتوکی کے نوجوان ستاروں پر کمند ڈالنے اور حصول تعلیم کے لیے چین تک جانے کا عزم رکھتے ہیں ۔ زندگی کا وہ کونسا شعبہ ہوگا جہاں پتوکی کے باصلاحیت اور مشاق نوجوان نہیں پہنچے
دور حاضر میں لاہور جیسے بین الاقوامی شہر کے نواح میں واقع ہونے کے باوجود پتوکی سے ملحقہ تمام علاقوں میں اب بھی سرداروں اور رانوں نے اپنی اپنی ریاستیں قائم کررکھی ہیں ۔ایک ریاست کا ڈاکو دوسری ریاست میں وار دات نہیں کرسکتا
جہاں دیگر بنیادی سہولتوں نے اس شہر کے دروازے پر دستک دی وہاں قومی سطح پر بینکنگ کی سہولتیں فراہم کرنے والے بنک بھی یہاں کثرت سے موجود ہیں جن میں بنک آف پنجاب ٬ بنک الفلاح ٬ حبیب بنک لمیٹڈ ٬ مسلم کمرشل بنک ٬ نیشنل بنک آف پاکستان ٬ یونائیٹڈ بنک لمیٹڈ ٬ الائیڈ بنک لمیٹڈ ٬ بنک اسلامی ٬ سونیری بنک لیمٹڈ اور فرسٹ وویمن بنک لیمٹڈ شامل ہیں ۔
تحصیل کا درجہ ملنے کے بعد انتظامی طور پر #پتوکی سے 575گاﺅں وابستہ ہیں

مکمل پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button