انوکھی عید دبک کے اپنے گھر رہو نہ اَب کے تم گَلے ملو سلام دور سے کرو

عجب سی دل میں ہے کَسک
کہ اب کے روزِ عید پر
نہ دوستوں کی محفلیں
نہ دِلبروں سے مجلسیں
مِٹھائیاں نہ خُورمے
نہ قہقے نہ رَتجگے
کہ حُکم ہے غَنیم کا
اطاعتِ وَبا کرو
دُبک کے اپنے گھر رہو
نہ اَب کے تم گَلے ملو
سلام دور سے کرو
نئِی یہ رِیت پڑ گئی
کہ دستِ یار مَس نہ ہو
مِلاپ میں لَمس نہ ہو
جہاں پہ ہو وہیں رہو
ذرا بھی ٹَس سے مَس نہ ہو

سبھی طبیب شہر کے
سبھی خطیب شہر کے
تمام امیر شہر کے
بَجُز غریب شہر کے
ہیں مُتّفِق بِلا فَصل
کہ نا گُزیر ہو گیا معاشرے میں فاصلہ
کلام میں بھی فاصلہ
سلام میں بھی فاصلہ
دِل و نظر کے بَین بَین
گُداز میں بھی فاصلہ
سِتم ظَریفی دیکھیے
کہ مفتیانِ شہر نے بھی کہہ دیا ہے بَرمَلا
کہ اِن دنوں میں ہے رَوا
نماز میں بھی فاصلہ

خُدائےِ ہر بُلند و پَست
قسم تیری خدائی کی
جلالِ کبریائی کی
کہ ہم میں ہے کہاں سَکت
بَجُز تیری نیاز کے
کہ اس بَلا سے بچ سکیں
ہے واسطہ تُجھے تیری
کریمئیِ صِفات کا
وسیلہِ کرم تُجھے
تیرے حبیبِ پاکﷺ کا
مُصیبتیں جہان کی
بزورِ کُن تُو ٹال دے
تُو اپنے بندگان کو وَبا کے اِس وبال سے
نکال کر امان دے
زمیں کو پھر سے اِذنِ رقصِ زندگی کا دان دے

مکمل پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button