شاعرہ : عابدہ ظہیر عابی نظم : ” اب نہ بت بنائیں گے”

شاعرہ : عابدہ ظہیر عابی
نظم : ” اب نہ بت بنائیں گے”

زخمِ دل چھپانے کو
گنگنا رہی ہوں میں

تو جو دے گیا مجھ کو،
درد اٹھا رہی ہوں میں

یاد آ رہا ہے تو
بھول جا رہی ہوں میں

تیرے پیار کی خاطر
مسکرا رہی ہوں میں

کیوں کثافتیں اتنی
کچھ تو بوجھ ہلکا کر

حال دل کے آ کہہ دے
آج میرے پاس آ کر

کیوں قطع تعلق ہے
کچھ نہ فائدہ ہو گا

پیار کو بھلا دینا
تیرا قاعدہ ہو گا

مجھ کو بھول کر شاید
تو مجھے سزا دے گا

دھند رت میں کھو جانا
پھر مجھے رلا دے گا

میں بھی چاند تکتی ہوں
تو بھی دیکھتا ہو گا

واپسی کا کوئی تو
راستہ بچا ہو گا

راہ تک رہی ہو گی
راستے کی تنہائی

ورنہ کیا سبب ہو گا
یاد تیری کیوں آئی

تو نے سوچ رکھا ہے
ختم بس سفر کر لیں

آج آخرِ شب آ
آنکھ اپنی تر کر لیں

صبح کی اذانوں میں
سوز کتنا ہوتا ہے

آنکھ خشک ہوتی ہے
دل تو پھر بھی روتا ہے

تیرے پاس آ کر میں
کاش اتنا کہہ پاتی

اتنی دیر کر کے تو
گونج بھی نہیں آتی

خوش نما پرندوں کا
جھنڈ اب نہ آئے گا

لمس کس کی سانسوں کا
رات بھر جگائے گا

کتنے درد کے رشتے
تجھ سے جوڑ ڈالے تھے

اب نہ بت بنائیں گے
وہ جو توڑ ڈالے تھے

اب تو بس سماعت ہی
کچھ سکون پا جائے

چاپ تیرے جانے کی
گونج بن کے آجائے

مکمل پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button